چشم کو ہم مثلِ شعلہ ساماں رکھتے ہیں
ہر دم درپیش اک نیا امتحاں رکھتے ہیں
مت پوچھیے پرواز ہم رندانِ عشق کی !
ہر دم قدموں میں اک نیا جہاں رکھتےہیں
اک راز جو باعثِ تخلیقِ کائنات ہے یارو!
چھپاۓ دل میں اُسی کا نشاں رکھتے ہیں
اُس حسنِ منتظر کےدیدار کی خاطر تنہاؔ
دل کو مضطرب نظر کو پریشاں رکھتے ہیں